27 اگست 2026 - 06:07
سعودی تیل، ہرمز اور باب المندب کے حصار میں

سنہ 2026 کی دوسری سہ ماہی میں بڑھتے ہوئے سمندری بحران اور توانائی کی برآمد کے راستوں میں رکاوٹوں کی وجہ سے سعودی معیشت میں 4.8 فیصد کمی آئی ہے۔ اسی وقت، اس ملک کی تیل کی سرگرمیوں میں 24.7 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس سے ریاض کے "وژن 2030" منصوبے پر دباؤ پڑا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سعودی معیشت کو تیل کے شعبے میں نمو کی تنزلی اور سکڑاؤ میں تیزی، کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی اہداف پر یمنی حملوں نے سعودی تیل کی برآمدات اور سعودی اقتصادی پیش منظر پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔

مضمون کا خلاصہ درج ذیل ہے:

سعودی عرب کی معیشت بحری بحران اور توانائی کی برآمدات میں خلل کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی میں سعودی جی ڈی پی میں 4.8 فیصد کمی آئی، جس کی بنیادی وجہ تیل کی سرگرمیوں میں 24.7 فیصد کی گراوٹ ہے۔ یہ زوال پہلی سہ ماہی کی 3 فیصد نمو کو الٹ دیتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ تیل اب بھی سعودی معیشت کا سب سے کمزور پہلو ہے۔

دو اہم آبی گذرگاہیں ـ آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب ـ سعودی تیل کی برآمدات کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان راستوں میں کسی بھی قسم کا خلل ترسیل کے اخراجات، بیمہ اور رسد کے اوقات میں زبردست اضافہ کرتا ہے، جس کے اثرات تجارت، سرمایہ کاری اور پیداوار پر مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین معیشت خبردار کرتے ہیں کہ بحری بحران کی طوالت سے تیل کے بغیر دوسرے شعبے بھی متاثر ہوں گے اور "وژن 2030" کے پرجوش منصوبے جیسے منصوبے خطرے میں پڑ جائیں گے۔

عالمی مالیاتی فنڈ کو توقع ہے کہ 2026 میں سعودی نمو کی شرح محض 1.7 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جو ریاض کی توقعات سے بہت کم ہے۔

یمن کا محاذ بھی اس بحران میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انصار اللہ حکومت نے سعودی عرب کی جارحیت اور ناکہ بندی کے جواب میں "ناکہ بندی کے بمقابلہ ناکہ بندی" کی پالیسی اپناتے ہوئے بحری راستوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ حالیہ کارروائیوں میں سعودی آرامکو کی جیزان ریفائنری سمیت ـ آرامکو کی متعدد تنصیبات ـ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ بحیرہ احمر میں المخا کے ساحل پر ایک سعودی جنگی جہاز اور اس کے ساتھ چار کشتیاں بھی میزائل حملے میں تباہ یا ناکارہ ہوئیں۔

دوسری جانب، سعودی عرب نے اپنے حملے جاری رکھے ہیں اور صعدہ کے سرحدی علاقوں پر بمباری کی ہے، جبکہ اس کے کرائے کے جنگجو مآرب اور حضرموت میں یمنی افواج کے ساتھ شدید جھڑپوں میں مصروف ہیں۔ یہ کشیدگی 2022 کی جنگ بندی کے بعد بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

خلاصہ یہ کہ سعودی عرب ایک سنگین تضاد کا شکار ہے: معاشی بقا کے لئے تیل کی برآمد ناگزیر ہے، لیکن بحری بحران اور علاقائی تنازعات سعودی تیل کی عالمی منڈیوں تک رسائی کو ناممکن، یا مشکل اور بہت مہنگا، بنا رہے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں بھی حجم میں کمی کی تلافی نہیں ہو سکتی۔

اگر یہ صورت حال جاری رہی تو بحری بحران سعودی معیشت کے لئے ایک ساختی مسئلہ اور تزویراتی نقصان بن سکتا ہے، جس کے اثرات صرف تیل کی آمدنی تک محدود نہیں رہیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha